چیک پاس کروانے کا ریل طریقہ
دوچیک تو پاس ہوگئے ہیں ۔ اب ایک چیک باقی رہتا ھے ۔ امید تو ھے کہ یہ بھی پاس ہو جائے گا ۔ رقم واپس کرنے میں بھی غوث اعظم کے حاجی ملک عبدالستار بہت غلط بیانی کرتے ہیں ، وعدہ کرتے ہیں ، لیکن چیک کیش نہیں ہوتے ۔اگر اس مرتبہ بھی ایسا ہوا ، تو آپ سے رابطہ کریں گے ۔ پہلے بھی آپ کی وجہ سے ہمیں ہماری سالوں پہلے دی گئی رقم کا بڑا حصہ واپس ملا ھے ۔
غوث اعظم سٹی ہاوسنگ اسکیم کے مالک / اٹارنی ملک عبدالستار نے چار سال پہلے پلاٹ فروخت کیے ،خریداروں سے ایڈوانس اور قسطوں میں کروڑوں وصول کیئے ، لیکن آج تک غوث اعظم سٹی ہاوسنگ اسکیم میں نا لائٹ ھے نا گیس ، نا پینے کے پانی کی سہولت نا سیوریج نظام اور نا پکے روڈ ۔ ایک روڈ جو نظر آتا ھے وہ سرکاری روڈ ھے ۔
اپریل 2019 سے لاکھوں روپیہ کی پوری رقم ادا کر کے اپنے پلاٹس اپنے نام کرنے کے لیے ڈاکٹر عبدلقادر اور ان کی اہلیہ نے رجسٹری اخراجات کے لاکھوں مزید ادا کیئے ۔ لیکن رجسٹریز نہیں ہوئیں ۔ اپنی رقم واپس طلب کرنے والے خریداروں کو جھوٹا آسرہ دیکر چلانے والے ملک عبدالستار نے آخر ڈاکٹر عبدالقادر کی رقم اس وقت ادا کی جب انہوں نے ان کی بے عزتی ان کے دفتر اور دفتر کے باہر شاندار اور بھرپور نمونے سے خراب کی ۔
لاکھوں کی رقم واپسی کے لیے ڈاکٹر صاحب کو آخر ملک عبدالستار کے بیٹے ملک عبدالحق نے دو چیک دیے ، لیکن وہ باونس ہو گئے ۔ پھر ڈاکٹر کا صبر جواب دے گیا اور پھر ڈاکٹر نے دفتر کے اندر اور باہر ان کی جو بے عزتی خراب کی ، اس کی تفصیلات ہم بیان نہیں کر سکتے ، لیکن اس کے بعد آخر وہ چیک کیش ہوگئے ۔
یاد رہے کہ سرکاری زمین جعلسازی سے حاصل کر کے رہائشی اسکیم میں شامل کرنے پر ان کی رجسٹریز بند ہیں ۔ خریداروں کے مطابق ہمیں انتہائی مہنگے داموں پلاٹس دیے گئے ہیں لیکن چار سال گزرنے کے بعد بھی رہائشی اسکیم میں کوئی ترقیاتی کام کرایا نہیں گیا ۔
آب ڈاکٹر صاحب کا مزید ایک چیک رہتا ھے ۔ ڈاکٹر عبدالقادر اب تیسری چیک کی وجہ سے ٹینشن میں ہیں ۔ ان کی جانب سے پہلے والے دو چیک کیش ہونے پر شکریہ کے ساتھ یہ اطلاع آئی کہ تیسرا چیک کیش نا ہونے پر ، ضرورت پڑنے پر مدد کے لیے آواز دیں گے
۔

0 Comments