سی پیک ۔۔ کانفرنس
پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈاور وفاقی سرمایہ کاری بورڈ کے اشتراک سے سی پیک انڈسٹریل کوآپریشن بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کاانعقاد
پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈاور وفاقی سرمایہ کاری بورڈ کے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں سی پیک انڈسٹریل کوآپریشن بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کاانعقاد کیا گیا جس میں وزیر مملکت و چیئرمین وفاقی سرمایہ کاری بورڈ محمد اظفر احسن، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور،متعلقہ حکام کے علاوہ چینی سرمایہ کار،کمپنیوں کے نمائندوں ،پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ اور چین میں پاکستان کے سفیر معین الحق کی ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کی جبکہ صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے وزیر اعلی پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔کانفرنس میں ستر سے زائد چینی کمپنیوں نے شمولیت کی۔اس موقع پرسی پیک کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔مقررین نے حکومت پاکستان کی پاکستان کے مختلف شعبوں میں متعارف کردہ مراعات پر تفصیلی بحث کی۔وزیر مملکت اظفر احسن نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہیں،حکومت نے مختلف سرمایہ کار دوست پالیسیاں متعارف کروائی ہیں جن میں الیکٹرک وہیکل پالیسی، موبائل مینوفیکچرنگ، کنسٹرکشن سیکٹر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزادانہ سرمایہ کاری کا نظام ہے،حکومت کا مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ یکساں سلوک ہے۔وفاقی سیکرٹری فارینہ مظہر نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ نے آسان کاروبار کے لئے مختلف اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کاروباری برادری کو حکومت کے منافع بخش اور آزادانہ سرمایہ کاری کے نظام سے فوائد حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہیں، حکومت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور سہولت کاری کے لیے پرعزم ہے،پاکستان میں سرمایہ کاری کا بہترین ماحول موجود ہے، دنیا کے سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اور وفاقی سرمایہ کاری بورڈ کے اشتراک سے سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد خوش آئند اقدام ہے،کانفرنس کے نتیجے میں سامنے آنے والی تجاویز کی روشنی میں صنعت کاری کے فروغ کے لئے لائحہ عمل بنایا جائے گا۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پاکستان اور چین دوستی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہیں ، ہمیں ملکر اپنے عوام، خطے اور دنیا کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنا ہے۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پاکستان چائنا اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ عظیم سماجی و معاشی بندھن ہے،سی پیک نے نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لئے عظیم مواقعے پیدا کیے ہیں۔ میاں اسلم اقبال نے مزید کہا کہ سرمایہ کار دوست ماحول کی وجہ سے پنجاب دنیا میں سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح بن چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا، دوسرے مرحلے میں پنجاب کا پاکستان اور چین کے مابین صنعتی تعاون میں کلیدی کردار ہے۔میاں اسلم اقبال نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران طے پانے والا پاکستان چائنا فری ٹریڈکا معاہدہ بے حد اہمیت کاحامل ہے،اس معاہدے سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعاون کو فروغ ملے گا۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور ملک کی جی ڈی پی میں اس کا حصہ60فیصد ہے۔پنجاب میں سپیشل اکنامک زون بنا کر صنعتی ترقی کا عمل تیز کیا ہے۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی سی پیک کے تحت بننے والا پاکستان کا سب سے بڑا سپیشل اکنامک زون ہے۔ صوبائی وزیر صنعت وتجارت نے کہا کہ صنعت کاری کو فروغ دینے کے لئے قائد اعظم بزنس پارک کے منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 24سمال انڈسٹریل ا سٹیٹس بھی آپریشنل ہیں۔صوبائی وزیر صنعت وتجارت نے کہا کہ حکومت کے زیر اہتمام شروع کئے گئے ہنر مند نوجوان پروگرام کے تحت ہر سال ایک لاکھ اضافی بچوں کو تربیت دی جارہی ہے۔صوبائی دارلحکومت میں جدید سکل ٹیکنالوجی پارک بھی بنایا جارہا ہے۔ صوبائی وزیر صنعت وتجارت نے کہا کہ پاکستان میں چین کی متعدد کمپنیوں نے سرمایہ کاری کررکھی ہے، مزید کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ کووڈ 19کے دوران چینی حکومت کے تعاون پر پاکستان اور پنجاب کی عوام کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ معاون خصوصی وزیر اعظم برائے سی پیک خالد منصور نے کہا کہ پاکستان چائنہ اقتصادی راہداری کے تحت بہت سے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ چین کے سفیر وننگ رونگ نے کہا کہ پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور کے تحت دونوں ممالک میں معاشی تعاون بڑھا ہے۔ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک کے تحت توانائی، روڈ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ سیکٹر میں منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔

0 Comments